مولا بسی ہے تیری محبت سینے میں
بن اس کے کوئی مزہ بھلا جینے میں
ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کرتا ہوں تری ثنا
سکھا دے مجھے بات کہنا قرینے میں
مولا تجھے ہے واسطہ تیری محبت کا
نہ رہے کوئی خصلت بد اس کمینے میں
بتایا جنہوں نے رستہ تیری محبت کا
لگا کے بیٹھے ہیں دربا ر مدینے میں
بنایا ہے تونے انہیں سرتاج محبوں کا
آتی ہے تیری خوشبو جن کے پسینے میں
وہی محمدﷺ وہی حامدﷺ وہی محمودﷺ بھی
ہے جن کی محبت ہر مسلمان کے سینے میں
گونجےہیں ان کے چرچے چہار دانگ عالم
راکھ ہوں بے دین اپنے ہی کینے میں
بس اک یہی تو ہے حسرت سعید کی
آگ عشق کی ایسے ہی لگی رہے سینے میں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں