کہاں یہ فقیر کہاں تیری شان
ہوسکے مجھ سے پھر کیسے بیان
بہت ہی کمزور تر تو ہوں میں
کیونکر پھر کھل سکے میری زبان
کون اٹھائے تیرے آگے سر اپنا
حقیر تر ہیں یہ زمین وآسمان
تیرے حلم کا ہی ہے مجھے سہارا
تیری ہی ملک ہیں ساری خوبیاں
ہو جائے مجھ پر بھی خاص عطا
تیرے سوابھول جاؤں سب سود و زیاں
تیرے ہی کرم سے جی رہا ہے سعید
ادنیٰ اثر یہ ہے،کہ ہے تیرا ثنا خواں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں