اپنی خطا دیکھوں یا تیری عطا دیکھوں
کرم ہر لحظہ تیرا بے انتہا دیکھوں
ہٹ کے تجھ سے ہر قدم پہ ٹھوکر کھاؤں
چھوڑ کے تجھے جو ترے ماسوا کو دیکھوں
جو بھی ملا بن مانگے ترے ہی در سے ملا
پھر جھولی کیوں کسی اور در پہ پھیلا کے دیکھوں
سعید ! تصویر یار جو سجی ہے نگاہوں میں
پھر کیوں کسی اور طرف نگاہ اٹھا کے دیکھوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں