منا جات بدرگاہ الٰہی
بھول جاتا ہوں تیرے گھر کا رستہ
دیتا ہوں تجھے ترے کرم کا واسطہ
کردے کرم رکھ لے بھرم بنادے بگڑی
نہ رکھتا ہوں کسی اور سے ایسا رشتہ
مانگوں کسی اور سے تو کیوں کر مانگوں
قائم رکھتا ہو تجھ ہی سے اپنا رشتہ
بھول ہوئی ہے مجھ سے بس اتنی کہ
بھولنے لگتا ہوں تیرے گھر کا رستہ
کوتاہی پہ اپنی معافی کا طلبگار ہوں
نشان منزل مجھے اپنے گھر کی راہ کا رکھنا
سعید بہت ہی نکما، اور توہی ہے مالک
بس کرم کی نگا ہ اس پہ رکھنا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں