میرا ملک ،میرا باغ

میرا ملک ،میرا باغ

لگتا نجانےکیوں، سب ہوتے بھی،یہ باغ   خالی   ہے
ہوتا    نجانے  کون،  سنبھالے جواسکو،  مالی    ہے
کھانے   والے  ہیں سارےکے سارےاسکے پھل  کو
کرتا   نجانے   کون،  پھر بھی اس کی رکھوالی ہے
کاٹنے  والے تھے، اور ہیں  سارے،اس کی  شاخیں 
پھر نجانے کیوں،  ہری بھری اسکی ہراک ڈالی ہے
جو  کوئی  بھی  آیا، اس  سے  کھاتا  ہی   چلا   گیا
ختم نجانےکیوں، پھربھی نہ ہوئی اسکی ہریالی ہے 
بنایا   تھا اسے ہم نے تیرے ہی کلمے  کے  نام  پر
پھر نجانے کیوں،  کلمہ گو ہی کی یہاں پامالی ہے
اسے  ملی  جو  آزادی  تو  تیرے  ہی  نام  پر  ملی
سمجھتاہوں میں،ترے ہی نام سے یہ خوشحالی  ہے
شکوہ ہے، نہ ہی تجھ سے  شکایت  ہے اے  مالک
سوچ میری ہی غلط،اور سب میری ہی نااہلی   ہے
دعا کرتا ہے تجھ سے ، سعید،  اے  میرے   مالک
عطا کردے ایسامالی، ملک میراجس سےخالی ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...