ہر غروب کہ جڑا ہے طلوع سے
ہر جسم کہ مرصع ہے روح سے
مقدر اگر بدلتا ہے تو اسی قوم کا
خراج دیتی ہے جو اپنے لہو سے
صبح و شام ہیں تذکرے انقلاب کے
رات دن چلتے ہیں پیالے شراب کے
باتوں سے ہو تبدیلی یہ ممکن کیسے
حالات بدلیں تو کیسے خانہ خراب کے
آؤ کہ پہلے اپنی ہی تشکیل ہم کر لیں
رویے پہلے اپنے ہی تبدیل ہم کر لیں
جھک کے رب کے آگے معافی مانگ لیں
رستے پہلے اپنے ہی تبدیل ہم کر لیں
غروب زندگی سے پہلے ہی یہ کام ہو
عمل ہمارا کوئی نہ باعث دشنام ہو
وقت سوال نکیرین سب روشن ہو ایسے
کہ روح بھی فائز بہ اعلٰی مقام ہو
آؤ کہ اخلاق اپنے ہم ابھی سدھار لیں
اطوار کو بھی اپنے ہم خوب سنوار لیں
جسم کا تو ہر دم ہی خیال ہے ہمیں
تھوڑا روح کو بھی ہم نتھار لیں
یہ سب فیصلے اب ہم پہ ہی ہیں
سانسیں کائںات کی آخری دم پہ ہیں
خود کو ہم نے ابھی بدلنا ہے سعید
کہ یہی فیصلے اب نوک قلم پہ ہیں