ہر دل ہی بیمار ہے
جھوٹ کاہی بیوپار ہے
سچ کا کوئی گاہک نہیں
دنیا کا یہ بازار ہے
قسم ہے قرآن بھی ہے
سجی جھوٹ کی دکان ہے
خوف خدا ذرا بھی نہیں
ہر کسی پہ سوالیہ نشان ہے
شوق کی یاں کون سنے
سر سچ پہ کون دھنے
سچ کا منہ جہان کالا ہو
سچ کا ساتھی کون بنے
بتایا تھا بڑوں نے ہمیں
آتی سانچ کو آنچ نہیں
مگر سعید روئے نہ تو کیا کرے
آتی کسی کو یہاں جانچ نہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں