مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے

ابو جی 

آپ اداس کیوں ہیں

یاد ہے آپ کو

وہ کہانیاں 

جو آپ سنایا کرتے تھے

کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے

اہل صبر کی

اہل استقامت کی 

آپ تو مرے ہیرو ہیں 

بھلا آپ کیسے اداس ہوں گے

آپ تو میرے لیے چھوٹوں کے لیے 

اک مثال ہیں

عزم وہمت کا پہاڑ ہیں 

بھلا آپ کیو ں اداس ہوںگے 

ابھی تو چھوٹے بھی ہیں 

امی جی بھی تو ہیں

میں تو آپ کی لاڈو ہوں

لیکن بڑے مزے ہیں 

جی جی جو چھکے وہی جانے

ہاں سب کا دھیان رکھنا 

نہ اداس ہونا نہ کسی کو اداس ہونے دینا 

میں تو اب مزے۔میں ہوں

بس اچھے اچھے کام کرنا کہ

ہم سب جب اکھٹے ہوں 

تو سب ہی مزے میں ہوں

دعاؤں میں مت بھولنا 

اچھا ابھی نانا کے پاس جاؤں گی

پھر دادا اور دادو کو بھی ہنساؤں گی

آپ میری فکر نہ کرنا 

میں بہت خوش اور مزے میں ہوں

آپ کی چاند تارا  مونا فاروق

مونا امی سے

 مونا امی سے 

امی جی۔ پیاری امی جی

میری سب سے پیاری امی جی

میرے بنا کبھی اداس نہ ہونا

ملنے کی کبھی آس نہ کھونا

یہاں سبھی اس سے بھی پیارا ہے

جو ہمیں سب نے بتا یا ہے

یہاں سارے اصحاب بھی ہیں 

اور جناب صاحب کتاب بھی ہیں

چاچو بھی اور نانا بھی ہیں

دادو جی اور دادا بھی ہیں 

سبھی دیکھنے مجھے  آئے

پھولوں کے گلدستے ساتھ لائے

سبھی بہت خوش ہیں یہاں 

منتظر انکے جو رہ گئے پچھلے جہاں

امی جی ابو جی خوش رہنا 

میں تو بہت خوش ہوں یہاں

ہاں بس اچھی سی بودوباش رکھنا 

اور پھرجنت میں ملنے کی آس رکھنا

یاد

 یاد 

اپنے غم تازہ کو تازہ نہ کروں تو کیا کروں

اپنی لخت جگر جانے کا غم نہ کروں تو کیا کروں

اس دل میں تھا جس کا بسر گئی اس جہاں سے گذر

جانے کا اس کا غم نہ کروں تو کیا کروں

اے صاحب نظر کر مجھ سے تھوڑا سا درگذر

یا دکھا مجھے رستہ کہاس غم کا میں کیا کروں 

اس غم تازہ کو تازہ کروں یا نہ کروں 

اپنی لخت جگر کے جانے کا غم کروں یا نہ کروں

رخصتی

6، اگست 2025 

کتنی ہی سمجھدار ہے بیٹی میری

سر شام ہی گھر لوٹ گئی

بنا کچھ کہے 

بنا کچھ مانگے

بنا بوجھ بنے 

سارے بوجھ اتار گئی 

جب لوگ خواب بننا شروع کرتے ہیں

وہ خواب کی تعبیر سنا گئی 

کتنی ہی سیانی 

کتنی ہی چنچل 

بنا کچھ کہے 

بنا کچھ مانگے 

سارے خواب

ادھورے ہی دکھا کے

سر شام لوٹ گئی

اب دروازے پہ بیٹھی

میں راہ تکوں گی

یہ جانتے ہوئے بھی 

کہ گھر جانے والے کب لوٹے ہیں

اپنی باری کے انتظار میں 

گھر جانے کی 

راہگزر کنارے 

منتظر رہوں گی

کب بلاوا آئے اور

میں جا کے ملوں 

اس نکمی سے جو

بیچ منجدھار چھوڑ 

چلی گئی مزے سے

ملنے کی آس تو ہے

وعدے کا پاس تو ہے 

آ ملیں گے بیٹا 

منتظر رہنا 

اچھا سا گھر بنا کے رکھنا 

اکھٹے رہیں گے 

مزے کریں گے 

مزے کریں گے

یاد رکھنا ان ملیں گے

سعید کی کہانی

 راہ چلتے چلتے دیواروں یہ لکھنا

گرے پنوں کو اٹھا کے پڑھنا


عادت اپنی ہے بہت پرانی

 مختصر سی ہے میری کہانی


کھلے ہاتھوں ہر کسی سے ملنا

 کڑوی کسیلی سے دور تر رہنا


سن لینا ہر کس کی ہر کہانی


کہ مختصر سی ہے یہ زندگانی


اپنے من کی بہت ہی کم کہنا 

کہنے والوں کی ہر بات سہنا


عادت اپنی ہے بہت پرانی فقط

 اتنی سی ہے سعید کی کہانی

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...