رخصتی

6، اگست 2025 

کتنی ہی سمجھدار ہے بیٹی میری

سر شام ہی گھر لوٹ گئی

بنا کچھ کہے 

بنا کچھ مانگے

بنا بوجھ بنے 

سارے بوجھ اتار گئی 

جب لوگ خواب بننا شروع کرتے ہیں

وہ خواب کی تعبیر سنا گئی 

کتنی ہی سیانی 

کتنی ہی چنچل 

بنا کچھ کہے 

بنا کچھ مانگے 

سارے خواب

ادھورے ہی دکھا کے

سر شام لوٹ گئی

اب دروازے پہ بیٹھی

میں راہ تکوں گی

یہ جانتے ہوئے بھی 

کہ گھر جانے والے کب لوٹے ہیں

اپنی باری کے انتظار میں 

گھر جانے کی 

راہگزر کنارے 

منتظر رہوں گی

کب بلاوا آئے اور

میں جا کے ملوں 

اس نکمی سے جو

بیچ منجدھار چھوڑ 

چلی گئی مزے سے

ملنے کی آس تو ہے

وعدے کا پاس تو ہے 

آ ملیں گے بیٹا 

منتظر رہنا 

اچھا سا گھر بنا کے رکھنا 

اکھٹے رہیں گے 

مزے کریں گے 

مزے کریں گے

یاد رکھنا ان ملیں گے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...