راہ چلتے چلتے دیواروں یہ لکھنا
گرے پنوں کو اٹھا کے پڑھنا
عادت اپنی ہے بہت پرانی
مختصر سی ہے میری کہانی
کھلے ہاتھوں ہر کسی سے ملنا
کڑوی کسیلی سے دور تر رہنا
سن لینا ہر کس کی ہر کہانی
کہ مختصر سی ہے یہ زندگانی
اپنے من کی بہت ہی کم کہنا
کہنے والوں کی ہر بات سہنا
عادت اپنی ہے بہت پرانی فقط
اتنی سی ہے سعید کی کہانی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں