عشق

 ہے مرض عشق میں خواری بہت

مان جائے محبوب تو دلداری بہت

ظاہرا تو معاملہ کچھ اور دکھائی دے

درحقیقت اسمیں ہے ذمہ داری بہت

قلب محبوب ہو نہ جائے آزردہ کہیں

ورنہ چل جاتی ہی تعلق پہ آری بہت

خواری و ذمہ داری بھی اوردلداری بھی

رکھنی پڑتی ہے اسمیں پردہ داری بہت

سعید غریب میں اس  کی سکت کہاں

سہہ سکے یہ، کہ ہے سخت بیماری بہت

تلاش

 جی چاہتا ترے حسن پہ شعر کہوں

ڈرتا لگتا ہے کہیں بہکا ہوا نہ لگوں

عشق کرنا راس نہ آیا شعر کہنے لگا

شعروں میں بھی مل سکا نہ سکوں

تیرے حسن کی تعریف ہو تو کیونکر

لوگ ہیں تو مگر فقط ظاہر پر مفتوں

نعرہ عشق ومستی لگا نے والےتو بہت

مگرنہ کوئی صاحب جنوں اور نہ جنوں

سعید کے درد دل کا چارا ہے گر کہیں

کوئی بتائے  کہاں جاکے تلاش کروں

کہاں ہے

 تم پوچھتے ہوصاحب کہ سعید کہاں ہے

جو بھی رطب و یابس ہے بس یہاں ہے

کسی سے نہ کوئی گلہ ہے یا غصہ ہے

جو کچھ بھی کسی سےہے بس یاں ہے

خشک وترسبھی برسر منبر کہے دیتے ہیں

چاہے کسی کے مزاج گرامی پہ گراں ہے 

بعد اس کے کبھی نہ کھوجیے گا سعید کو

جوکچھ بھی ہے ان لفظوں میں عیاں ہے

بے بسی

 نے دعویٰ کہ ہمی شاعرم

 نے دعویٰ خوش کلامی ہست

الفاظ نجانے کہاں سے چلے آتے ہیں

خود بخود لڑیوں میں پروئے چلے جاتے ہیں

نہ خیال ہوتا ہے نہ ہی پتہ 

خود ہی جڑے چلے جاتے ہیں

دلیل اس کی فقط ہے بس اتنی

باوجود یاد کرنے کے یاد نہ آتے ہیں

مدح

 مدح

کیا ہی خوب نعت کہتے ہو

آقا کے قدموں میں رہتے ہو

نظریں چہرے پہ رہتی ہیں

جواک  اک منظر دکھاتے ہو

آقا کی آمدکا منظر ہے گویا

لمحہ لمحہ جو مسکراتے ہو

آقا سامنے بیٹھے ہیں جیسے

کبھی نظریں ایسےجھکاتے ہو

بیاں کر کے منظر رخصت کا

کبھی خون کے آنسو رلاتےہو

سدا سرسبزوشاداب رہو تم

نعت نبی جو ہمیں سناتے ہو

نعت

 اے کاش کبھی ہم بھی ایسی نعت کہیں
کہ مدینے سے بلاوا آجائے
سارے دکھ درد دھل جائیں
جب ہمیں مدینے بلایا جائے
حاضر ہوں در اقدس پہ 
جب ہمیں پکارا جائے
بیٹھے ہوں دہلیز مقدس پہ
 جب لیا نام ہماراجائے
روز محشر بھی امید شفاعت ہے ہمیں 
جب آقا کے غلاموں کا کیا شمارا جائے

نعت

 نعت  کہنے کا یارا بھی نہیں

بن نعت کہے گذارابھی نہیں

کہاں سے  ڈھونڈھ  کے لاؤں 

نئے  الفاظ اسکا چارہ بھی نہیں

اب بس فقط یہی ہے وردزبان

آقاجوتمھارا نہیں وہ ہمارا نہیں

یہ گناہ و ثواب کا فلسفہ

 یہ گناہ و ثواب کا فلسفہ

 یہ رمز و کنایہ کی باتیں

 یہ الجھی بکھری زلفیں 

یہ بھیگی بھیگی راتیں

ایک طرف صدامرغ صبح

اک طرف محبوب کی باتیں

رات ہے کہ بیت ہی گئی

ختم ہونے کو ہیں ملاقاتیں

رات بھر جو کمایا سعید

سامنے آجانی سب خرافاتیں

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...