مرکز خیالات

 بہت سے آثار سے پتہ چلتا ہے  کہ خیالات کا مرکز قلب انسانی ہے جس طرف اس کا جھکاؤ ہو تا ہے ویسے ہی خیالات اس سے پیدا ہوتے ہیں ۔ جو لوگ نیک خصلت ہوتے ہیں ان کے خیالات پاکیزہ اور نیک ہوتے ہیں اسی طرح بد خصلت والوں کے بد۔ یہ دو انتہائیں ہیں ۔

باقی ان کے درمیان ہیں قلب میں جدھر کا رجحان بڑھتا ہے ادھر کے خیالات کی فراوانی ہو جاتی ہے ۔

جیسا کہ ایک غالبا حدیث کا مفہوم ہے کہ اپنی سونڈ انسان کے قلب میں ڈالے رکھتا اور وساوس پیدا کرتا ہے ۔ مگر جسے اللہ محفوظ رکھے 

اسی وجہ سے ماحول کا اثر بھی ہوتا ہے اور انسان کا دل ماحول کے اثرات لیتا ہے دماغ تو فقط قاضی کا کام کرتا ہے بادشاہت دل ہی کی ہے مرضی بھی اسی کی چلتی ہے

نفس ظاہری خوبیوں پر مرتا ہے اس لیے ہوا وہوس کی جانب زیادہ مائل ہوتا ہے 

اگر دل متوازن،معتدل اور منصف مزاج ہے تو قاضی کو ہمراہ رکھتاہے ۔ اور اگر  عیاش و بے پرواہ ہے  تو نفس کی رائے کو فوقیت دیتا ہے 

باقی تمام کیفیات ان دونوں حدود کے درمیان ہی ہیں ۔ جس طرف رجحان زیادہ ہو ادھرکو  جھکاؤ اور خیالت زیادہ ہوتے ہیں 

آپ صرف ایک دن رات کو سونے پہلے تجزیہ کر کے دیکھیں بات واضح ہو جائے گی۔ 

انشاء اللہ

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...