خیال رکھنا پیندا


جے لائیے یاریاں تے چفیرے د ا خیال رکھنا پیندا 
دشمنی وچ تے ہر ایرے غیرے دا خیال رکھنا پیندا 


ساڈی نکی جئی انجانی غلطی پاروں رس نہ جائے یار
ہر نکے وڈے دی گل دا وی دھیان رکھنا پیندا 


جے لائیے یاریاں تے اونہاں نوں توڑ وی نبھائیے
اپنی نہ سہی یاراں دی عزت دا خیال رکھنا پیندا 


گلاں سعید دیاں نوں ایویں ای جانیوپر
 کدی کدی ایہناں گلاں دا وی خیال رکھنا پیندا 

چاہئیے اک بار پھر وہی صدائے کن کہ


چاہئیے اک بار پھر وہی صدائے کن کہ

زاغ کے تصرف میں ہے شاہین کا مسکن

برپا   ہے   ہر جا  وہی   آتش     نمرود

جانے  کب ہوگا پھر   ابراہیم    کا ورود

موسٰیؑ کی بھیڑیں کہ پھرتی ہیں آوارہ

کون آئے گا انہیں  دکھانے سیدھی راہ

عیسٰیؑ کو تو اٹھا  لیا رب نے آسمان   پر 

پنجہ یہود ہے مسیحیوں کی رگ جان پر

مجھ پر بھی چل چکا ہے جدت کا فسوں

کھو  چکا ہوں میں بھی اپنی   راہ جنوں

پھرتا ہوں زمانے میں، میں اب بے لگام

راہنمائی   اوروں   کی   تھا   میرا ہی کام

کہتا ہے   مجھ سے   اب بھی   میرا ہادی

کیوں   میں نے   اپنی اصل منزل  بھلا دی

کرغور  اور فکر   اپنے   مقصد   حیات  پر

ڈٖال    لے اب   ہی   اپنی  ناؤ راہِ  نجات  پر

کار   گہ حیات    کہ   ہے   اب بھی   جاری

پوری   کرلے   تو   بھی   اپنی   ذمہ داری

کل    کو   کیا   دے   گا  تو  کئے کا   جواب

جب   کھڑا ہوگا   رب کے حضور روز حساب

کھولی  جائے گی  واں ہر بڑی چھوٹی سعیدؔ 

کر  ناں سکے  گا   تو   کسی بات   کی تردید

توبہ کی صورت نظر نہیں آتی


توبہ کی صورت نظر نہیں آتی 
معافی  کی  تمنا  بر    نہیں آتی
نظر ہے کہ  ٹکی  ہے  انہی پر
روشنی   تو ہے پرنظر نہیں آتی
کوتاہی   ہے  تو فقط  اپنی   ہی
صد شکر، کہ  جھڑک  نہیں آتی
بس اک بار نظر  کرم  کردیں وہ
پھر  زندگی  کہ ختم  ہی  ہوجاتی
بس عاجزی سے جڑے رہنا سعید
امید سے نخل تمنا ہری ہوہی جاتی

ایک PST کی زندگی کا ایک دن

ایک PST کی زندگی کا ایک دن

آج صبح معمول سے ہٹ کر اسلم جلد ہی سکول کے لیے نکل پڑا تھا رات کو بھائی کے ساتھ ہونیوالی توتو میں میں کے باعث طبیعت مضمحل اور موڈ پر یاسیت کاغلبہ تھااور وہ سوچ رہا تھا کہ ایک PST کی زندگی کا بھی بھلا کوئی مقصد ہے نہ گھر میں کوئی عزت اور نہ ہی معاشرے میں کوئی مقام۔ انہیں سوچوں میں ڈوبا جب وہ سکول پہنچا توابھی سکول لگنے میں کافی وقت باقی تھا اور جو بچے آئے ہوئے تھے انہوں نے طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔ اس نے حاضری لگائی اور دور کونے میں رکھی ایک کرسی پر جا بیٹھا۔ اس کے جلد آ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے ناشتہ نہیں کیا تھا کیونکہ صبح جب وہ ناشتہ کرنے بیٹھا تھا تو اسکی نصف بہتر نے رات کابچا ہوا سالن اسکے سامنے رکھتے ہوئے بڑے دلار سے کہا تھا جانو آج یہ ختم ہونا چاہیے اور آئندہ کچھ پکانا ہے تو پیسے دے کر جانا نہیں تو واپسی پر بھی یہی سالن ملے گا اور یہ سنتے ہی وہ اٹھا اور سکول نکل کھڑا ہوا تھا۔ مہینے کے آخری ایام چل رہے تھے اور جیب کاحال وہ جانتا تھا یا اس کا خدا، بھلا جب پانچ بچوں کا ساتھ ہو اور سارے ہی سکول جانے والے ہوں تو ایک غریب PST کی معمولی تنخواہ کہاں تک ساتھ دے گی۔ اوپر سے طرہ یہ کہ وہ کوئی ایسا ہنر بھی نہیں جانتا کہ فارغ اوقات میں کچھ اضافی آمدن کا ساتھ ہو جائے۔
سکول کے اکثر اساتذہ پنجم و ہشتم کے امتحانات کے سلسلہ میں ڈیوٹی پر تھے، محکمہ تعلیم کا باوا آدم ہی نرالا ہے کہ جو بھی اضافی ڈیوٹی یا خجل وخواری کا کام ہوتا ہے اسے PST'sکے ذمہ لگا دیاجاتاہے اس پر طرہ یہ کہ کوئی اضافی ادایئیگی بھی نہیں کی جاتی اس طرح کئی حقدار وضرورت مند اساتذہ کی نہ صرف حق تلفی ہوتی ہے بلکہ دلآزاری بھی کی جاتی ہے۔ یہ بہت ساری اضافی ذمہ داریاں اسے سونپ کر اس سے بہتر نتائج کی توقع بھی رکھی جاتی ہے گویا وہ کوئی انسان نہیں بلکہ مشین ہے اور اضافی آمدنی والی ڈیوٹیاں ہیں وہ PST'sکے لیے شجر ممنوعہ ہیں۔ وہ ایک طرف بیٹھا اسی سودوزیاں کی سوچوں میں گم تھا کہ ہیڈماسٹر اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ادھر آ نکلا اور کہنے لگا تم ادھر چھپے بیٹھے ہو اور محکمے والے تمھاری تلاش میں باؤلے ہو رہے ہیں چلو چار آنے تم بھی کما لو ۔ اسلم نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ڈیوٹی کہاں ہے ۔ ہیڈماسٹر نے جس سکول کا نام بتایا وہ شہر کے دوسرے کنارے پر تھا۔ اس نے کہا کیا اس ڈیوٹی سے جان چھوٹ سکتی ہے تو ہیڈ ماسٹر نے کہا بڑی مشکل ہے تم جانتے ہو تقریبا سارے استاد امتحانی ڈیوٹی پر ہیں بلکہ طاہر جس نے بیماری کے باعث امتحانی ڈیوٹی سے نام نکلوایا تھا اسے بھی اسلم کے ساتھ جانا ہو گا کیونکہ دفتر سے فون آیا ہے کہ تم دونوں کو فوری طور پر کلسٹر سنٹر بھیج دوں اور میں نے آرڈر بک پر تم دونوں کا لکھ دیا آگے تمھاری مرضی خود جواب دیتے رہنا۔
اسلم سوچنے لگا کہ بڑی مشکل سے جان بچی تھی اور شکر کیا تھا کہ اضافی ڈیوٹی سے بچ گئے اب نہ جانے کسے اس کا یہ سکون سے بیٹھنا اچھا نہ لگا تھا کہ اس کی ڈیوٹی مارکنگ میں لگوا دی گئی ۔ اتنی دور کلسٹر سنٹر،میں جو شہر کے پرلے سرے پر تھا اور اوپر سے مختلف محکمہ جات کی مہربانی سے وہاں بروقت پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ، کے لیے نکل کھڑا ہوا، کہیں کھدائی والوں نے ناطقہ بند کررکھا تھا تو کہیں شادی بیاہ والے ٹینٹ راستہ روکے جی آیاں نوں کر رہے تھے اورکہیں قل شریف والوں کو مین روڈ بند کرنے کے علاوہ کہیں جگہ میسر نہ آئی تھی، طاہر اور وہ تقریبا آگے پیچھے ہی کلسٹر سنٹر پہنچے تھے، ہیڈماسٹر نے نکلتے ہوئے اتنی مہربانی ضرور کردی تھی کہ متعلقہ بندے کا نام اور فون نمبر بھی دفتر سے پوچھ کر لکھوا دیا تھا۔ وہاں پہنچ کر متعلقہ ہیڈایگزامینر سے رابطہ کیا اور پھر سٹاف روم میں اس سے ملاقات کی وہ شریف آدمی بھی ا نہیں کی طرح لا علم تھا۔
بہرحال کلسٹر سنٹر کے نگران، جو اسی سکول کے پرنسپل تھے، کو ڈھونڈنا شروع کیا آخر کار مل ہی گیے ارشاد ہوا کہ آپ تشریف رکھیں آپ سے میٹنگ کرتے ہیں۔
اسلم کے ہیڈ ایگزامینر انگریزی کے استاد تھے جب ڈیوٹی سائنس کے پرچوں کی مارکنگ پر لگی تھی اور انہیں بھی کوئی تحریری آرڈر موصول نہیں ہوئے تھے اور وہ بھی ایک ٹیلی فون کال پر کلسٹر سنٹر دوڑے آئے تھے انہیں بس اتنا زبانی بتایاگیا تھا کہ فلاں فلاں PST آپ کے ہمراہ مارکنگ کے فرائض سرانجام دیں گے۔مرتے کیا نہ کرتے کا مصداق حسب حکم سٹاف روم میں بیٹھ کر حکم حاکم کا انتظار کرنے لگے ، جو شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، قسمت نے یاوری کی اور کچھ ہیڈ ایگزامینرنے ہمت کی تو خدا خدا کرکے پرنسپل صاحب کو ان کیڑوں مکوڑوں پر تر س آہی گیا جو اپنے حصے کا کچھ رزق لینے ان کے جا پہنچے تھے انہیں میٹنگ کے لیے طلب فرما لیا اور فرمائے تاحال پرچہ جات موصول نہیں ہوئے بہر حال ضروری ہدایات لکھ لیں اس کے بعد مہربانی فرماتے ہوئے ان کی حاضری لی اور فون نمبر لیکراجازت مرحمت فرما دی اورا رشاد ہوا جیسے ہی پرچہ جات موصول ہوں گے آپ کو مارکنگ کے لیے طلب کر لیا جائے گا۔ اسلم سوچنے لگا صرف اتنے سے کام کے لیے کتنا وقت، سرمایہ اور صلاحیتیں ضائع کی گئیں اگر پہلے ہی مناسب منصوبہ بندی کر لی جاتی تو کتنے ہی لوگ کیا کیا کام نہ کر لیتے۔
واپسی پر سارا رستہ اسی سوچ میں گذرا کہ اگر کسی افسر کی پتلون گیلی ہو جائے تو شامت بیچارے PSTکی، کوئی بچہ داخلے کے بغیر رہ گیا تو قصور PSTکا، پولیو کے قطرے ہوں، مردم شماری ، خانہ شماری غرضیکہ کون ساا یسا کام ہے جہاں PSTکی کھنچائی ڈیوٹی کے نام پر نہیں ہوتی اور جب مراعات یا انعامات کا سلسلہ چلتا ہے تو یہ فیض وکرم کا دریا اوپر ہی کہیں ناپید و نایاب ہو جاتا ہے اور PSTکے حصے میں یا خواب ہیں یا پھر افسران بالا کی دھمکیاں اور (PEDA)ایکٹ کی مختلف شقیں ۔
اتنی ساری ڈیوٹیاں کرنے کے بعد اس کے پاس وقت ہی کہاں بچتا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی تعلیم وتعلم ا حسن طریقے سے سر انجام دے سکے۔خدا ہی جانے وہ وقت کب آئے گا جب ایک PST صرف اپنی بنیادی ذمہ داری باوقار، باعزت طریقے سے سر انجام دیگا اور اس کو سوائے تعلیم وتعلم کے کوئی اور کام نہ ہو گا اور اس کی آمدن اتنی ہو گی کہ اسے رات کا باسی سالن نہ کھانا پڑے گا اور بچوں کی کتابوں کاپیوں کے لیے کسی کا احسان مند نہیں ہونا پڑے گا۔
(آج موء رخہ 24-02-2015کو تحریر کیا ) محمد سعید PST گورنمنٹ درسگاہ اقبال پرائمری سکول مظفرکالونی، فیصل آباد)

اچھے بچو! پیارے بچو!

اچھے بچو! پیارے بچو!

اچھے بچو! پیارے بچو!

میرے راج دلارے بچو

سکول وقت پہ آیا کرو

سبق پورا سنایا کرو

گھر کا جو کام ملے

پورا کرکے آیا کرو

اٹھ کر صبح سویرے

نماز پڑھنے جایا کرو

مسجد میں پڑ ھ کر قرآن

آکر کھانا کھایا کرو

وردی پیاری سی پہن کر

پھر سکول کو جایا کرو

پیار چھوٹوں سے کیا کرو

کہنا بڑوں کا مانا کرو

کہنا ماں باپ کا مان کر

دعائیں ان کی لیا کرو

کرکے عزت استادوں کی

مان ان کا بڑھایا کرو

کرکے محنت دنیا میں

مقام اونچا پایا کرو

مان کر بات سعید کی

سلام سب کو کیا کرو

مونا ابو جی سے

 مونا ابو جی سے ابو جی  آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں  جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...