چاہئیے اک بار پھر وہی صدائے کن کہ
زاغ کے تصرف میں ہے شاہین کا مسکن
برپا ہے ہر جا وہی آتش نمرود
جانے کب ہوگا پھر ابراہیم کا ورود
موسٰیؑ کی بھیڑیں کہ پھرتی ہیں آوارہ
کون آئے گا انہیں دکھانے سیدھی راہ
عیسٰیؑ کو تو اٹھا لیا رب نے آسمان پر
پنجہ یہود ہے مسیحیوں کی رگ جان پر
مجھ پر بھی چل چکا ہے جدت کا فسوں
کھو چکا ہوں میں بھی اپنی راہ جنوں
پھرتا ہوں زمانے میں، میں اب بے لگام
راہنمائی اوروں کی تھا میرا ہی کام
کہتا ہے مجھ سے اب بھی میرا ہادی
کیوں میں نے اپنی اصل منزل بھلا دی
کرغور اور فکر اپنے مقصد حیات پر
ڈٖال لے اب ہی اپنی ناؤ راہِ نجات پر
کار گہ حیات کہ ہے اب بھی جاری
پوری کرلے تو بھی اپنی ذمہ داری
کل کو کیا دے گا تو کئے کا جواب
جب کھڑا ہوگا رب کے حضور روز حساب
کھولی جائے گی واں ہر بڑی چھوٹی سعیدؔ
کر ناں سکے گا تو کسی بات کی تردید
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں