یاد
اپنے غم تازہ کو تازہ نہ کروں تو کیا کروں
اپنی لخت جگر جانے کا غم نہ کروں تو کیا کروں
اس دل میں تھا جس کا بسر گئی اس جہاں سے گذر
جانے کا اس کا غم نہ کروں تو کیا کروں
اے صاحب نظر کر مجھ سے تھوڑا سا درگذر
یا دکھا مجھے رستہ کہاس غم کا میں کیا کروں
اس غم تازہ کو تازہ کروں یا نہ کروں
اپنی لخت جگر کے جانے کا غم کروں یا نہ کروں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں