سائباں
جب ہم دل گیر ہوتے ہیں
دل بہلا نے وہ آجاتے ہیں
جب راہ سے ہٹنے لگتے ہیں
راہ دکھا نے وہ آ جاتے ہیں
الجھنے لگتے ہیں گتھیوں میں ہم
تو سلجھا نے وہ آ جاتے ہیں
ہم بوتے ہیں فصلیں گناہوں کی
صاف کرا نے وہ آ جاتے ہیں
دھوپ غموں کی جو جلا نے لگتی ہے
بن کے سائباں وہ چھا جاتے ہیں
چلتے چلتے جو اکھڑ نے لگتی جو سا نسیں
حوصلہ بڑھا نے وہ آ جاتے ہیں
کہاں کہاں یاد کرے سعید ا ن کو
ذرا دل پگھلا وہ یاد آ جاتے ہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں