نبی کہوں یا انہیں رسول کہوں
دین حق کا اصل الاصول کہوں
محبت ان کی رگ رگ میں
میرے سما جائے کچھ یوں
کچھ اور کہوں یا نہ کہوں
اپنے لیے جنت کا حصول کہوں
نعت کہنے کی سعادت جو ملے
اسے اپنی دعائے مقبول کہوں
دعا ہے سعید یوں ہی نعت کہتا رہے
اسے ہی رحمتوں کا نزول کہوں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں