دل ہے کہ اک کاسہء بے تاب
دید تیری اس کو قطرہء گہر یاب
جب تلک دور ہے تجھ سے
رہے ! اسی کا ہی خانہ خراب
رنگ جما رگ و جان میں ایسا
نہ جچے اب کسی اور کا شباب
پرت کھلے کون و مکاں کے جب سے
دنیا دکھے گویا دھوکہ و سراب
یہ بحث مکان و لا مکاں لا حاصل
ہے ما سوا تیرے سب مثل حباب
بھول جائے سب یہ مشت خاکی
گر اٹھا پائے یہ سارے حجاب
ہزاروں پھرے بنوں میں مارے مارے
کر نہ پایا کوئی تجھے بے نقاب
احد احد کی صدا اب آئے تو کیسے
نہ کوئی بلال نہ ہی مثل خُباب
دیکھ چکا ہے آسماں یہ سارے رنگ
بس اب ختم ہونے کو ہے یہ خواب
الٰہی کردے سعیدؔ پہ بھی نظر ایسی
چھو نہ پائے اس کو تپش آفتاب
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں