منزل حق
عنایت گر ہو جا ئے ر بانی
بندہ بھی بن جائے حقانی
یہی تو ہے حق کا رستہ
یہی تو ہے منزل کی نشانی
آؤ تم بھی چل کے دیکھ لو
بندہ نے بڑی دیر بعد پہچانی
یاروں کو اسی کا تو خوف ہے
لوگوں نے اب ان کی سیرت جانی
بھاری وظا ئف جیب بھر تعویذات
ہر جگہ پہ تھی اک لمبی کہانی
ہمیں بھی تھی منزل کی تلاش
جواب ملتا تھا لن ترانی لن ترانی
حضرت جی کی خدمت میں حاضر ہوئے
مسکرائے پیار کیا فرمایا آؤ جانی
عرض معروض کیا اظہار درد و غم کیا
نہ ملا کوئی لمبا وظیفہ نہ کوئی اور کہانی
بس اتنا کہا جو ہو جائےعبدالحق کا ساتھ
باقی رہے کیا تمھیں کو ئی پریشانی
وہ دن آج کا دن سب درد وغم بھول گئے
سعیدؔ کو نہیں اپنے اس کیے پر کوئی پشیمانی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں