ماں کی یاد
تیرے بن اے ماں، تھوڑا رو لینے کو جی چاہتاہے
گود میں تیر ی اب بھی سو لینے کو جی چاہتا ہے
کہاں گئے وہ ہاتھ جو گرتے ہوئے مجھے تھام لیتے تھے
کیا ہوئے وہ لب جو بار بار میرا نام لیتے تھے
کیا ہوئی وہ آنکھیں جو میرے دکھ میں نم ہو جاتی تھیں
کہاں گئے وہ کان جن کوسنانےسے دورغم ہو جاتے تھے
کہاں گئے وہ کان جن کوسنانےسے دورغم ہو جاتے تھے
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ روٹھ جاتا تھا میں
ہر بار پیار سے منا لیتی مجھے میری ماں
اب کی بار وہ روٹھی ہے ایسی یاروکہ
بتاؤ مجھے میں جاؤں کہاں
بتاؤ مجھے میں کیسے مناؤں اپنی ماں
بتاؤ مجھے کہاں سے لاؤں اپنی ماں
(نانی اماں کی وفات پر کہے گئے)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں