کہوں ایسی نعت ٹھنڈک پہنچے سینے کو
سنے جو بھی اسے جا پہنچے مدینے کو
سرمہ میری آنکھوں کا خاک مدینے کی
خوشبو میرے لیے آقا کے پسینے کی
دنیا کی سب نعمتیں کردوں قربان
آرزو جو ہے قدموں میں جینے کی
انکار کرے جو محبوب کی نبو ت کا
جہنم ٹھکانہ بنے اس کمینے کا
نعت کہنا ہی زندگی کا مقصد ٹہرے
بات ہے کتنے سلیقے کی قرینے کی
مولا کرم کی نظر جو سعید پہ ہو جائے
پوری ہو تمنا مدینے میں مرنے جینے کی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں