مناجات
تعریف پہ تیری موقوف ساری خدائی جھیلی تیرے واسطے سب کی جدائی
جس کام کی خاطر تونے دنیا بنائی اسی کام واسطے تجھ سے لو لگائی
تیری ہی خاطر جنگل میں منگل لگایا نام پہ تیرے دریا کنارے آ دیا جلایا
خدمت میں مخلوق کی سارا دن گزارا رات بھر جاگ کے تجھے آ منایا
ترے نام سے پائی بہار زندگی نے ترے نام سے جان آئی بندگی میں
ترے آگے جھکے بحر و بر عاجزی میں تیرے نام سے ہی بڑھے سب بزرگی میں
مانگتے ہیں سبھی تجھ سے رحمت تری مانگتے ہیں سبھی تجھ سے برکت تری
التجا ہے کہ بنادے بگڑی میری دعا ہے سجا دے نگری میری
تونے ہی نظام حیات کو ہے چلایا تو نے ہی اس عاجز کو مانگنا سکھایا
قبول کر لے! کر لے! مری یہ صدا یا رب باری یا رب الٰہا
سبھی ناموں سے بلند نام ترا طلب کرتا ہوں تجھ سے کرم ترا
بن جائے، سنور جائے کام میرا تو ہے آقا سعیدؔ گنہگار غلام ترا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں