تھوڑی سی چکھادےنا
تھوڑی سی پلا دے نا
برسوں کے ترسے ہیں
اک جھلک دکھا دے نا
بن پیے مخمور ہیں جو
درحجابات مستورہیں وہ
اک ذرہ ساپردہ جو ہے
توہی ہٹا دےنا ہٹا دےنا
ترے نام پہ ہی مرتے ہیں
ترے لیے ہی سب کرتے ہیں
جوبند ہیں رستے ہمارے
تو ہی چلادےنا چلادےنا
جو کچھ بھی کہا تونے
دل سے سن لیا مان لیا
تجھے ہی سب کچھ اپنا
ہم نے جان لیامان لیا
ہم پہ تھوڑا کرم کما لےنا
جہاں بھی گرے اٹھالےنا
بےکس بے بس وبےسہاراہیں
لطف وکرم سے اپنے چھپالےنا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں