سفر کہ اب اختتام کو پہنچا
تشنہ۔ لب کہ جام کو پہنچا ۔
سندیسہ میرے جان من کا
کتنی دیربعد مرے نام کو پہنچا
رخت سفر باندھ لے اے مسافر
کہ یہ سفر اب اختتام کو پہنچا
تشنہ لب کہ جام کو پہنچا
بندہ کوئی شاعر نہیں اس بلاگ میں بندہ فقط اپنےجذبات کا اظہار کررہا ہے۔ حوصلہ افزائی فرمائیں۔ شکریہ
مونا ابو جی سے ابو جی آپ اداس کیوں ہیں یاد ہے آپ کو وہ کہانیاں جو آپ سنایا کرتے تھے کتابوں میں دکھا یا کرتے تھے اہل صبر کی اہل استقامت کی...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں