شہداء پشاور کی یاد میں
خوگر نہیں ہیں ہم مار کے
بھوکے تو ہیں ہم پیار کے
غصہ تھا اوروں پہ تم کو
کیا ملا تمھیں پم پہ اتار کے
اب میں گھر کو لوٹوں تو کیسے
بھیجا تھا ماں نے سجا سنوار کے
غم و الم میں ڈبویا تونے ہمیں
شکار ہوئے ہم کس زہنِ بیمار کے
کب طلوع ہوگا امن کا سورج سعیدؔ
لمبے ہو گئے ہیں لمحے انتظار کے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں