کچھ خوف خدا ہے کہ نہیں
یاپھر کہہ دے خدا ہے ہی نہیں
پہلے شاید کچھ ہوشرم وحیا
اب تو کہیں ، باخدا ہے ہی نہیں
نام پہ ڈراتے ہیں جس کے ہمیں
ڈر اسکا، ذرہ برابر ہے ہی نہیں
سناتھا کہ سچ کاسر جھکتانہیں
اب تو گویا کوئی سچا ہے ہی نہیں
بوبکر وعمر، عثمان وعلی کا پیرو
لگتا ہے کہیں، اب کوئی ہے ہی نہیں
سر اٹھا کے جیے تو اب کون جیے
حسین جیسا مرد اب ہے ہی نہیں
جاری ہے تلاش کسی حق نما کی
مردان حر کا کہیں سراغ ہےہی نہیں
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں