معافی نامہ
گناہوں میں اپنے پختہ تر ہوتا گیا رحمت سے تیری دور تر ہوتا گیا
ہو گیا میں کس قدر دیدہ دلیر حضور ترے گستاخ تر ہوتا گیا
رحمت سے تیری توڑ کر امیدیں ساری میں دنیا دار مگر ہوتا گیا
دور ہو کے راہوں سے تیری اور کچھ نہیں بس بندہ ء شر ہوتا گیا
گم ہوا خواہشوں میں اس قدر تجھ سے بھی بے خبر ہوتا گیا
بھٹک گیا حق سے میں اسقدر ہر لمحہ غیروں کی نذر ہوتا گیا
بڑھا ہے مجھ پہ فضل ترا بہت پھر بھی میں بندہ بےصبر ہوتا گیا
کیسے رکھے تیری رحمت کی امید
سعید ہر لمحہ جسکا غیروں میں بسر ہوتا گیا
سنا ہے وسیع ترہے غصے سے رحمت
تیری معاف کردے ہر لمحہ جو غفلت میں بسر
ہوتا گیا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں